نئی دہلی18اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) حکومت پر مودی گھر کے اندر ہی چوطرفہ دباؤ بنتا جا رہا ہے کہ وہ رام مندر کی تعمیر کے لئے ایوان میں قانون لائے اور ایودھیا میں مزعومہ رام جنم بھومی پر مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کرے۔امکان پر اس حتمی مہر لگی ار ایس ایس کے وجے دشمی پروگرام میں موہن بھاگوت کے بیان سے سنگھ کے سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ رام مندر کے لیے قانون بنانا چاہیے۔ اگر بھاگوت یہ بات کہہ رہے ہیں تو وہ ایک طرح سے براہ راست حکومت کو اشارہ کر رہے ہیں کہ سنگھ اور بی جے پی کے حامیوں اور رام کے تئیں اعتقاد رکھنے والوں کے جذبات کو ذہن میں رکھتے ہوئے مودی حکومت کو ایوان میں رام مندر کے لئے قانون لانا چاہئے۔مودی حکومت پر مندر کی تعمیر کے لئے دباؤ کم نہیں ہے۔ زمین پر کارکنوں اور ووٹروں کو جواب دینے سے لے کر خود کو مندر کی تعمیر کے لئے مصروف دکھانا بی جے پی کے لیے ضروری ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف سنتوں نے حکومت کو اس معاملے پر دباؤڈالنا شروع کر دیا ہے کہ مندر کی تعمیر میں تاخیر وہ برداشت نہیں کریں گے۔ سنتوں کا کہنا ہے کہ کیا بی جے پی مندر کی تعمیر کا اپنا وعدہ بھول گئی ہے اور کیوں سپریم کورٹ کے فیصلے کے انتظار کا بیان پارٹی کی جانب سے بار بار دیا جا رہا ہے۔ توجہ رہے کہ سنتوں کے ایک بڑے طبقے اور رام مندر تحریک سے منسلک مہنتوں نے اس سال 6 دسمبر سے ایودھیا میں مندر کی تعمیر کا اعلان کردیا ہے۔ سنت سماج کا کہنا ہے کہ وہ مندر کی تعمیر کا کام شروع کر دیں گے، حکومت روکنا چاہتی ہے تو روکے۔سنتوں کی یہ پکار حکومت کے لئے کم مشکل نہیں ہے۔ مرکز کی مودی حکومت اور ریاست میں یوگی حکومت کے لئے یہ بہت مشکل ہو جائے گی کہ سنتوں کو روکنے کے لئے وہ کسی بھی قسم کی طاقت استعمال کریں۔اس سے بی جے پی کو اپنے حامیوں کے درمیان خاصا نقصان جھیلنا پڑ سکتا ہے۔سنت سماج کے اس اعلان کو سنگھ سربراہ کے آج کے تقریر سے ایک طرح کی قانونی حیثیت مل گئی ہے۔ سنگھ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ رام مندر کے لئے کورٹ کے فیصلے کا انتظار نہیں کرنا چاہتا اور حکومت اس کے لئے قانون لاکر مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کرے۔ مودی حکومت کے لئے آئندہ سرمائی اجلاس اس حکومت کے آخری سیشن ہوگا ۔ اس کے بعد کا بجٹ سیشن ایک وسط مدتی بجٹ کے ساتھ ختم ہو جائے گا اور ملک میں عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان کردیا جائے گا ۔انتخابات سے ٹھیک پہلے اپنے ووٹروں کے درمیان رام مندر کے لئے اعتماد بحال کر نا بی جے پی کے لئے ضروری ہے۔